نئی دہلی، 9/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کا امریکی دورے میں مختلف پروگراموں میں حصہ لینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس دوران وہ کئی اہم معاملوں پر لوگوں سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ بات چیت میں جب ان سے 'بھارت جوڑو یاترا' کے سلسلے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس 'یاترا' نے ان کے سیاسی نظریہ کو پوری طرح سے تبدیل کر دیا ہے۔ اس یاترا کا مقصد ہندوستانی سیاست میں محبت کو پیش کرنا تھا۔ اس پورے سفر کے دوران انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا جس میں سب سے اہم سیکھ یہ تھی کہ سیاست میں محبت کے تصور کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔
'بھارت جوڑو' یاترا کی شروعات کی وجہ بتاتے ہوئے راہل نے انکشاف کیا کہ ان کے لیے بھارت میں سبھی کمیونکیشن (لوگوں سے بات چیت) کے راستے بند ہو چکے تھے۔ پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو ٹی وی پر نہیں دکھایا جاتا تھا۔ میڈیا ان کی باتوں کو نظر انداز کرتا تھا۔ قانونی طور سے بھی مدد نہیں مل پا رہی تھی، ایسے میں ہم نے اور ہماری ٹیم نے محسوس کیا کہ اگر ہم میڈیا اور اداروں کے ذریعہ لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں تو ان کے پاس سیدھے جانا سب سے اچھا طریقہ ہوگا۔ اس لیے 'بھارت جوڑو یاترا' کے تحت 4000 کیلومیٹر کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
راہل گاندھی نے سفر کے دوران ہوئی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شروعات میں انہیں گھٹنے کے مسئلہ کے سبب دقت ہوئی اور تین چار دنوں تک انہیں لگا کہ انہوں نے یہ کیا کر دیا؟ کیونکہ ہر صبح 10 کیلومیٹر چلنا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ یاترا نے ان کے کام کرنے کے طریقے کو پوری طرح بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس یاترا نے ان کے سیاسی، لوگوں کے تئین نظریہ اور کمیونکیشن کے طریقے کو بھی تبدیل کر دیا۔
گفتگو کے دوران راہل گاندھی نے اپنے سفر کا سب سے اثر انگیز پہلو بتاتے ہوئے کہا کہ عام طور پر سیاست میں 'پریم (محبت)' جیسے لفظ کا استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ نفرت، غصہ، ناانصافی اور بدعنوانی جیسی باتیں ہوتی ہیں، لیکن 'بھارت جوڑو یاترا' نے اس نئے خیال کو ہندوستانی سیاست میں جگہ دی ہے اور اس فکر نے بہت اچھا کام کیا ہے۔